علی بن حسین بن علی بن ابیطالب علیہم السلام، جو امام سجاد علیہ السلام و امام زین العابدین علیہ السلام کے نام سے مشہور ہیں، شیعوں کے چوتھے امام ہیں۔ مشہور قول کی بنا پر، سال ۳۸ ہجری میں متولد ہوئے1۔ آپ علیہ السلام کو اپنے دادا امام علی علیہ اسلام، اپنے چچا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور والد امام حسین علیہ السلام کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع نصیب ہوا2۔
شیخ مفید نے آپ علیہ السلام کی والدہ کا نام و نسب، شہر بانو یا شاه زنان، دختر یزدگرد، ابن شہریار بن کِسری بیان کیا ہے3۔
آپ علیہ السلام کی کنیت ابوالحسن اور القاب میں زین العابدین، سیدالساجدین، سجاد، ذوالثفنات معروف ہیں4۔
امام سجاد علیہ السلام کی امامت ھ۶۱ قمری میں شہادت امام حسین علیہ السلام سے آغاز ہوئی اور سال ۹۴ قمری ہجری تک چلتی رہی یوں آپ کی مدت امامت ،۳ سال بنتی ہے5۔
مورخین کے مطابق، امام سجاد علیہ السلام واقعہ کربلا کے دوران ۲۳ سال کے تھے چونکہ عاشورہ کے دن آپ علیہ السلام شدید بیمار تھے جس کی بنا پر جو بھی قتل کا ارادہ کرتا بیماری کی شدت کو دیکھ کر کہتا کہ اس کی موت کے لیے یہی بیماری کافی ہے یوں پروردگار نے زمین پر آنے والی حجت خدا کو محفوظ رکھا6۔
امام سجاد علیہ السلام نے کربلا کے بعد دربار کوفہ اور مسجد شام میں خطبے دیئے جس میں اپنا، اپنے والد اور دادا کا لوگوں میں تعارف کرایا اور انہیں بتایا کہ جو یزید اور اس کے کارندوں نے لوگوں میں تبلیغ کی ہے وہ غلط ہے تاکہ معلوم ہو آپ علیہ السلام کے بابا کوئی خارجی نہیں تھے اور نہ ہی وہ مسلمانوں میں انتشار پھیلانا چاہتے تھے بلکہ انہوں نے حق کی خاطر اور مسلمانوں کی دعوت پر سفر کیا۔ وہ دین میں پھیلائی گئی بدعتوں کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے تھے7۔۔۔
حضرت سجاد علیہ السلام اور زینب کبری سلام اللہ علیہا کے خطبوں سے لوگ بیدار ہوئے اور شام میں بے چینی اور بغاوت آثار نظر آنے لگے جس کی بنا پر یزید نے اسیروں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔
اسیران کربلا، جب مدینے کے نزدیک پہنچے تو امام سجاد علیہ السلام نے بشیر بن جزلم کو حکم دیا کہ اپنے اشعار کے ذریعے لوگوں کو لٹے ہوئے کاروان کی آمد کی خبر دے، جس کی بنا پر بشیر نے مسجد نبوی میں آ کر یوں فریاد بلند کی:
يا أَهْلَ يَثْرِبَ لا مُقامَ لَكُمْ بِها
قُتِلَ الْحُسَيْنُ فَأَدْمُعي مِدْرارُ
اَلْجِسْمُ مِنْهُ بِكَرْبَلاءَ مُضَرَّجٌ
وَالرَّأسُ مِنْهُ عَلَى الْقَناةِ يُدارُ
اے مدینہ والو! اب مدینہ تمہارے رہنے کے قابل نہ رہا، کیونکہ حسین علیہ السلام مارے گئے۔۔۔۔ پس مسلسل آنسو بہاؤ ان کا جسم اقدس کربلا میں بےگور و کفن تھا اور آپ کے سراقدس کو نوک نیزہ پر گھمایا گیا۔
لوگ نالہ و شیون کے عالم میں کاروان اہلیبت علیہم السلام تک پہنچ گئے جہاں امام سجاد علیہ السلام نے لوگوں سے خطاب کیا 8:
امام سجاد علیہ السلام واقعہ کربلا کے بعد، ۳۴ سال زنده رہے جس میں ہمیشہ شہداء کربلا کی یاد کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے۔ جب کبھی ٹھنڈا پانی آتا امام حسین علیہ السلام کو یاد کرکے گریہ فرماتے9۔
عبادت
مالک بن انس سے منقول ہے کہ علی بن حسین علیہ السلام روزانہ ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ دنیا سے رحلت کرگئے، اسی بنا پر آپ کو زین العابدین کہا جاتا ہے10۔
فقراء کی مدد
ابو حمزه ثمالی سے روایت ہے کہ علی بن حسین علیہ السلام رات کو مخفیانہ طور پر غذا کی بوری اپنے دوش پر اٹھا کر فقیروں تک پہنچاتے اور فرماتے: جو صدقہ رات کی تاریکی میں دیا جائے وہ غضب خدا کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ ان بوریوں کا اثر آپ کی پشت پر غسل میت کے دوران نمایاں تھے11۔
علم
صحیفہ سجادیہ، امام سجاد علیہ السلام کی دعاؤں کا مجموعہ ہے، جو زبور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کہلاتی ہے۔ اس میں طاغوت سے اظہار بیزاری، خدا کی بندگی اور رازعبودیت نمایان ہے12۔
شہادت
امام سجاد علیہ السلام کی شہادت، 25 محرم میں ولید بن عبد الملک کے دستور پر دیئے گئے زہر کی بنا پر واقع ہوئی۔ آپ علیہ السلام کا روضہ قبرستان بقیع میں قبر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام، امام محمد باقر علیہ السلام و امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ ہی ہے۔ امام علیہ السلام کی عمر شہادت کے وقت، ۵۷ سال تھی13۔
آخر میں یہی دعا ہے کہ ہمیں بھی امام زین العابدین علیہ السلام کی طرح کربلا کی یاد کو تازہ رکھنے اور بہترین انداز سےعزاء اہلبيت علیہم السلام کی توفیق عطا کرے۔ آمین
1الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳۷
2مناقب آل ابیطالب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۱۷۵
3شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳۷
4اعلام الوری، ۱۳۹۰ق، ص۲۵۶
5الارشاد، ج۲، ص۱۳۸
6الارشاد، ج۲، ص۱۱۳
7زندگانی علی بن الحسین، ص ۷۵
8الارشاد، ج۲، ص۱۲۲
9بحار الانوار، ج۴۵، ص۱۴۹
10عقدالفرید، دار الکتب العلمیہ، ج۳، ص۱۱۴
11زندگانی علی بن الحسین علیہ السلام، ص ۱۴۷-۱۴۸
12زندگانی علی بن الحسین علیہ السلام،ص۱۰۵
13الاتحاف بحب الاشراف، ص۲۷۶و۲۷۷