Articles

Beginning of Muharram


By Sheikh Ghulam Mehdi Hakimi
Date : Wednesday 17 Jun 2026

چل در شبیر علیہ السلام پر رتبہ سوا ہو جائے گا
خانہ کعبہ ترا بھی حج ادا ہو جائے گا
انبیاء علیہم السلام سے کہہ رہے ہیں مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبراؤ مت
آگئے شبیر علیہ السلام اب سب کا بھلا ہو جائے گا

اسلامی سال کا پہلا مہینہ

مُحَرَّمُ الحَرام یا مُحَرَّم قمری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں جنگ و جدال حرام ہے اسی لئے اسے محرم کے نام سے پکارا جاتا ہے1۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے شیعوں اور محبوں کے لئے یہ مہینہ عزاداری کا مہینہ بن گیا اور اس زمانے سے ہی آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے اطاعت گذارپوری دنیا میں جہاں کہیں ہوتے ہیں اس مہینے میں عزاداری کا بھرپوراہتمام کرتے تھے۔

محرم آنے پر اہلبیت علیہم السلام کا اندازِ غم

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’ فَعَلی مِثلِ الحُسَینِ فَلیَبکِ الباکونَ؛ فإنَّ البُکاءَ علَیهِ یَحُطُّ الذُّنوبَ العِظامَ. ثُمَّ قالَ علیه‏ السلام: کانَ أبی علیه ‏السلام إذا دَخَلَ شَهرُ الُمحَرَّمِ لا یُری ضاحِکا، وکانَتِ الکَآبَهُ تَغلِبُ علَیهِ حَتّی تَمضِیَ عَشرَةُ أیّامٍ، فإذا کانَ یَومُ العاشِرِ کانَ ذلکَ الیَومُ یَومَ مُصیبَتِهِ وحُزنِهِ وبُکائهِ، و یَقولُ: هُوَ الیَومُ الَّذی قُتِلَ فیهِ الحُسَینُ علیه‏ السلام‘‘ حسین علیہ السلام جیسوں پر رونا چاہیے۔ بے شک ان پر گریہ کرنا گناہان کبیرہ کو جھاڑ دیتا ہے۔ پھر فرمایا: ماہ محرم کے شروع ہوتے ہی کوئی میرے والد کو مسکراتا ہوا نہیں دیکھتا تھا اور عاشورا کے دن تک آپ علیہ السلام کے چہرے پر اندوہ اور پریشانی کا غلبہ ہوتا تھا اور عاشور کا دن آپ علیہ السلام کے لئے مصیبت اور رونے کا دن تھا اور فرماتے تھے: آج وہ دن ہے کہ جس دن حسین علیہ السلام شہید ہوئے ہیں2۔

ماہ محرم کے آداب

اس مہینے کے کچھ خاص آداب و رسوم ہیں جن کو ہم علماء کی زبانی بیان کریں گے۔

میرزا جواد ملکی تبریزی اپنی کتاب المراقبات میں لکھتے ہیں: حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے محبت رکھنے والوں کے لئے بہتر ہے کہ اس مہینے کے پہلے دس دن ان کے ظاہر اور باطن پر پریشانی اور اندوہ کے آثار مشاہدہ ہوں اور کچھ حلال لذت سے خاص طور پر نویں اور دسویں محرم کو پرہیز کریں اور وہی حالت ہو جیسے کہ اپنے کسی عزیز کے دنیا کے جانے کے بعد ہوتی ہے اور اس مہینے کے پہلے دس دن ہر روز زیارت عاشورا پڑھ کر اپنے امام کو یاد کریں3۔

اس کے علاوہ مراجع عالی قدر کی نگاہ میں آداب محرم کچھ یوں ہیں:

  1. مجالس عزاداری برپا کرنا: مناسب یہی ہے کہ اہلبیت علیہم السلام کے پیروکار، محرم الحرام کے مہینے میں باشکوہ طریقے سے، مجالس سوگواری ابا عبد اللہ علیہ السلام برپا کریں جس میں خطباء اور علماء فضائل اہل بیت اور ان کی سیرت پر گفتگو کریں مخصوصا جوانوں کو ان مجالس سے آشنا کریں۔
  2. سیاه پوشی: عزاى امام حسين علیہ السلام میں سیاہ لباس کا پہننا چونکہ تعظيم شعائر کا سبب بنتا ہے لہذا اس کی كراہت ختم ہوتی ہے بلکہ استحباب کے حکم میں داخل ہوجاتا ہے اور اجر رسالت کی ادائیگی کا باعث بن جاتا ہے، اسی بنا پر بچے، جوان اور بوڑھے سبھی سیاہ لباس پہن کر امام حسین علیہ السلام کی مجالس میں شرکت کریں۔
  3. تبلیغ دین: عزاداری امام حسین علیہ السلام میں ذاکرین و خطباء سے قران و احادیث معصومین علیہم السلام کے ذریعے اپنی گفتگو سے سامعين کو مذہب اہلیبت سے قریب لائیں۔

اعمال ماه محرّم

  1. جب ہلال محرّم کی رؤیت ہو، تو مستحب ہے کہ تکبیر کہیں اور اگر ممکن ہو تو وہ مفصل دعا پڑھے جس کو سید نے کتاب اقبال الاعمال میں نقل کی ہے4۔
  2. شب اوّل محرّم میں سو رکعت نماز پڑھے، اور ہر رکعت میں سوره حمد اور قل هو اللّه پڑھتے ہوئے دو دو رکعت کرکے پڑھتے ہوئے یہ نماز ختم کریں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ جو بھی اس نماز کو پڑھے اور اوّل ماه محرّم کو روزه رکھے، اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے پورا سال نیکی میں گزارا اور آیندہ سال تک فتنوں سے محفوظ رہے گا اور اگر مرا تو بہشت میں داخل ہو گا5۔
  3. اوّل محرّم کے دن، روزه رکھنا مستحب ہے امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی اس دن روزہ رکھے اور اپنی حاجت کو خداوند متعال سے مانگے تو دعا مستجاب ہوگی اسی دن حضرت زکریّا علیہ السلام نے خدا سے فرزند طلب کیا اور خدا نے قبول کرتے ہوئے یحیى علیہ السلام کو عنایت کیا6۔
  4. امام على بن موسى الرضا علیہما السلام سے نقل ہوا کہ رسول گرامى صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوّل محرّم کےدن، دو رکعت نماز پڑھتے اور نماز کے بعد ہاتھ بلند کر کے اس دعا کو تین مرتبہ پڑھتے تھے: اَللّهُمَّ اَنْتَ الاِْلهُ الْقَدیمُ، وَ هذِهِ سَنَةٌ جَدیدَةٌ، فَاَسْئَلُکَ فیهَا الْعِصْمَةَ مِنَ الشَّیْطانِ،۔۔۔7۔
  5. مرحوم شیخ طوسى فرماتے ہیں کہ محرم کے پہلے عشرے میں روزه رکھنا مستحب ہے البتہ روز عاشورا کھانا اور پینے سے پرہیز کرے لیکن روزہ نہ رکھے اور جب عصر کا وقت ہوجائے تو کچھ کھا لیں کیونکہ اس دن روزه رکھنا، بنى امیّہ کا شیوه تھا جو واقعہ کربلا کے شکرانے کے لئے روزه رکھتے تھے8۔

آخر میں دعا یہی ہے کہ اللہ تعالی تمام عزاداروں کو بھرپور طریقے سے مراسم عزاداری کو منانے اور اس کے ذریعے بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل کو پرسہ دینے کی توفیق دے۔ آمین


حوالہ

1مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۸۸
2امالى صدوق، صفحہ ۱۲۸، حدیث ۲
3المراقبات فی مراقبات شہر محرم الحرام
4اقبال الاعمال، صفحہ ۵۴۵
5اقبال الاعمال، صفحہ ۵۵۲
6بحارالانوار، جلد ۴۴، صفحہ ۲۸۵
7بحارالانوار، جلد ۹۵، صفحہ ۳۳۳
8مصباح المتہجّد، صفحہ ۷۷۱

Gides © 2026 web developtment by GIYF Team | Rights Reserved