چل در شبیر علیہ السلام پر رتبہ سوا ہو جائے گا
خانہ کعبہ ترا بھی حج ادا ہو جائے گا
انبیاء علیہم السلام سے کہہ رہے ہیں مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبراؤ مت
آگئے شبیر علیہ السلام اب سب کا بھلا ہو جائے گا
مُحَرَّمُ الحَرام یا مُحَرَّم قمری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں جنگ و جدال حرام ہے اسی لئے اسے محرم کے نام سے پکارا جاتا ہے1۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے شیعوں اور محبوں کے لئے یہ مہینہ عزاداری کا مہینہ بن گیا اور اس زمانے سے ہی آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے اطاعت گذارپوری دنیا میں جہاں کہیں ہوتے ہیں اس مہینے میں عزاداری کا بھرپوراہتمام کرتے تھے۔
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ فَعَلی مِثلِ الحُسَینِ فَلیَبکِ الباکونَ؛ فإنَّ البُکاءَ علَیهِ یَحُطُّ الذُّنوبَ العِظامَ. ثُمَّ قالَ علیه السلام: کانَ أبی علیه السلام إذا دَخَلَ شَهرُ الُمحَرَّمِ لا یُری ضاحِکا، وکانَتِ الکَآبَهُ تَغلِبُ علَیهِ حَتّی تَمضِیَ عَشرَةُ أیّامٍ، فإذا کانَ یَومُ العاشِرِ کانَ ذلکَ الیَومُ یَومَ مُصیبَتِهِ وحُزنِهِ وبُکائهِ، و یَقولُ: هُوَ الیَومُ الَّذی قُتِلَ فیهِ الحُسَینُ علیه السلام‘‘
حسین علیہ السلام جیسوں پر رونا چاہیے۔ بے شک ان پر گریہ کرنا گناہان کبیرہ کو جھاڑ دیتا ہے۔ پھر فرمایا: ماہ محرم کے شروع ہوتے ہی کوئی میرے والد کو مسکراتا ہوا نہیں دیکھتا تھا اور عاشورا کے دن تک آپ علیہ السلام کے چہرے پر اندوہ اور پریشانی کا غلبہ ہوتا تھا اور عاشور کا دن آپ علیہ السلام کے لئے مصیبت اور رونے کا دن تھا اور فرماتے تھے: آج وہ دن ہے کہ جس دن حسین علیہ السلام شہید ہوئے ہیں2۔
اس مہینے کے کچھ خاص آداب و رسوم ہیں جن کو ہم علماء کی زبانی بیان کریں گے۔
میرزا جواد ملکی تبریزی اپنی کتاب المراقبات میں لکھتے ہیں: حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے محبت رکھنے والوں کے لئے بہتر ہے کہ اس مہینے کے پہلے دس دن ان کے ظاہر اور باطن پر پریشانی اور اندوہ کے آثار مشاہدہ ہوں اور کچھ حلال لذت سے خاص طور پر نویں اور دسویں محرم کو پرہیز کریں اور وہی حالت ہو جیسے کہ اپنے کسی عزیز کے دنیا کے جانے کے بعد ہوتی ہے اور اس مہینے کے پہلے دس دن ہر روز زیارت عاشورا پڑھ کر اپنے امام کو یاد کریں3۔
اس کے علاوہ مراجع عالی قدر کی نگاہ میں آداب محرم کچھ یوں ہیں:
آخر میں دعا یہی ہے کہ اللہ تعالی تمام عزاداروں کو بھرپور طریقے سے مراسم عزاداری کو منانے اور اس کے ذریعے بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل کو پرسہ دینے کی توفیق دے۔ آمین
1مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۱۸۸
2امالى صدوق، صفحہ ۱۲۸، حدیث ۲
3المراقبات فی مراقبات شہر محرم الحرام
4اقبال الاعمال، صفحہ ۵۴۵
5اقبال الاعمال، صفحہ ۵۵۲
6بحارالانوار، جلد ۴۴، صفحہ ۲۸۵
7بحارالانوار، جلد ۹۵، صفحہ ۳۳۳
8مصباح المتہجّد، صفحہ ۷۷۱