چوتھی ہجری کے ماہ شعبان کی تیسری تاریخ تھی جب حضرت علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کے گلستان میں دوسرے چشم و چراغ کی ولادت ہوئی. جیسے ہی یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرط مسرت میں جلدی حضرت فاطمہ علیہا السلام کے گھر آئے اور اسماء بنت عمیس سے فرمایا: میرے بچے کو میرے حوالے کرو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت دی.1
اسی وقت جبرائيل علیہ السلام امين وحى الہى لے کر نازل ہوئے اور عرض کیا: اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس بچے کا نام ہارون کے چھوٹے بیٹے شبیر کے نام پر رکھو چونکہ شبیرعبرانی لفظ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عربی میں حسین رکھو کیونکہ علی علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہی منزلت ہے جو ہارون کو موسی علیہ السلام سے تھی یوں خدا کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کا نام منتخب ہوا.2 ساتویں دن آپ علیہ السلام کا عقیقہ کیا گیا اور سر مبارک کے بالوں کو تراشنے کے بعد ان کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کیا گیا.
امام حسین علیہ السلام کی عظمت کو جاننے کے لیے ذرا ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس چھ سالہ زندگی کو دیکھیں جو اپنے نواسوں (حسنین) کے ساتھ گزار رہے تھے۔ اس دوران حسنین علیہ السلام کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گفتار و کردار جسے ہم سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعبیر کرتے ہیں، کیا رہا تاکہ تمام مسلمانوں پر امام حسین علیہ السلام کی عظمت عیاں ہو جائے.
سلمان فارسى کہتے ہیں: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ امام حسين علیہ السلام کو اپنے زانو پر بیٹھا کر چومتے جاتے اور فرماتے تھے: تم بزرگوار ہو اور بزرگوار کے بیٹے اور بزرگواروں کے باپ ہو، تم امام علیہ السلام ہو، امام علیہ السلام کے بیٹے اور اماموں کے باپ ہو، تم حجت خدا، حجت خدا کے فرزند اور خدا کے حجتوں کے باپ ہو جن کا خاتم اور قائم (امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) ہو گا.3
انس بن مالك روايت کرتا ہے: جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اہل بیت میں کن کو زیادہ چاہتے ہیں توفرمایا: حسنین علیہما السلام کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ حسنین علیمہا السلام کو سینے سے لگاتے اور لگاتاربوسے لیتے.4
ابوہريره جیسا شخص بھی روایت کرتا ہے کہ رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ حسن و حسين علیہما السلام کو شانوں پر بیٹھا کر ہماری طرف چلے آتے ہیں جب ہم تک پہنچے تو فرمایا: جو بھی میرے ان دونوں فرزندوں کو دوست رکھے گویا اس نے مجھ سے دوستی کی اور جو ان سے دشمنی کرے گویا اس نے مجھ سے دشمنی کی.5 سب سے عالی ترین جملہ جو رسول گرامى اسلام اور امام حسین علیہ السلام کے معنوی اور جسمانی رشتے کی حکایت کرتا ہے وہ ہے: حسين علیہ السلام مجھ سے ہے اور میں حسین علیہ السلام سے ہوں.6
اگر ہم اخلاق و رفتار امام حسين علیہ السلام پر ایک اجمالى نگاہ ڈالنا چاہیں تو ہمیں دو طرح کے بڑے محکم رابطے نظر آتے ہیں پہلا خدا سے رابطہ کہ امام حسین علیہ السلام نماز، خدا سے راز و نیاز، تلاوت قرآن، دعا اوراستغفار سے خاص لگاؤ رکھتے تھے۔ حتى زندگی کی آخرين رات کی مہلت مانگتے ہوئے فرمایا: خدا جانتا ہے كہ میں نماز، تلاوت قرآن، دعا و استغفار کو دوست رکھتا ہوں.7 آپ علیہ السلام نے پچیس حج پیدل انجام دیئے.8 جبکہ دوسرا رابطہ خلق خدا سے ہے کہ وہ بھی اتنا ہی مستحکم نظر آتا ہے چنانچہ ایک دن آپ علیہ اسللام کسی محلے کو عبور کر رہے تھے دیکھا کہ کچھ غریب لوگ اپنی عبا بچھا کر خشک روٹی تناول کررہے ہیں انہوں نے آپ علیہ السلام کو دعوت دی جس پر آپ علیہ السلام سواری سے یہ کہتے ہوئے اترے کہ:
ان الله لا يحب المتكبرين
یعنی اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا9
پھر فرمایا: میں نے تمہاری دعوت قبول کی، اب آپ بھی دعوت کو قبول کریں یوں ان کو دولت سرا میں لا کر پذیرائی کی اور لوگوں کو ایک بڑا عملی درس بھی دیا.10
شعيب بن عبدالرحمن خزاعى سے منقول ہے:
جب حسين بن على علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی تو آپ علیہ السلام کی پشت مبارك پر گھٹے پڑے تھے جس کا راز جب امام زين العابدين علیہ السلام پوچھا گیا تو فرمایا: یہ ان بوریوں کے نشانات ہیں جو رات کو میرے بابا اپنے دوش پر لاد کر بیواؤں، یتیموں اور فقیروں کے گھروں تک پہنچایا کرتے تھے.11
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیرت امام حسین علیہ السلام سے آگاہی اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خالق کی مخلصانہ عبادت اور مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کرنے کی توفیق عنایت کرے اور ہمارے امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل عطا کرے۔ آمین.
1اعيان الشيعه، جزء ۱۱، ص ۱۶۷
2معانى الاخبار، ص ۵۷
3مقتل خوارزمى، ج ۱، ص ۱۴۶ - كمال الدين صدوق، ص ۱۵۲
4سنن ترمذى، ج ۵، ص ۳۲۳
5الاصابہ، ج ۱۱، ص ۳۰
6سنن ترمذى، ج ۵، ص ۳۲۴
7ارشاد مفيد، ص ۲۱۴
8مناقب ابن شهرآشوب، ج ۳، ص ۲۲۴
9سوره نحل، آيه ۲۲
10تفسير عياشى، ج ۲، ص ۲۵۷
11مناقب، ج ۲، ص ۲۲۲