Articles

Congratulations on the Birth of Lady Zainab (sa)


By Sheikh Ghulam Mehdi Hakimi
Date : Tuesday 20 Jan 2026

جنت البقیع، مدینہ
لقب
العقیلہ
والد
امام علی علیہ السلام
والدہ
بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
تاریخِ پیدائش
۵ جمادی الاوّل
جائے پیدائش
مدینہ
شہادت
۱۵ رجب المرجب
شوہر
عبداللہ بن جعفر بن ابو طالب علیہ السلام
مدفن
دمشق

سب سے پہلے تمام مومنین کو عقیلہ بنی ہاشم، جناب زینب کبری سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔

مشہور قول کی بنا پر ،حضرت زینب سلام اللہ علیھا سال پنجم ہجری، جمادی الأول کی پانچویں تاریخ کو مدینہ میں متولد ہوئیں 1پیغمبر اکرمﷺ نے ان کا نام زینب سلام اللہ علیھا رکھا بلکہ بعض روایات کی بنا پر جبرائیل علیہ السلام نے اس نام کو خداوند متعال کی جانب سے الهام کیا۔2

حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے بہت سے القاب نقل ہوئے ہیں جن میں سے اہم ترین: عقیلہ بنی ہاشم، عارفہ، فاضلہ، معصومہ صغری، عالمہ غیر معلمہ، عقیلة النساء، فصیحة و شریکة الحسین ہیں 3۔ البتہ ان کو کربلا کے عظیم مصائب کے تحمل کی بنا پر،ام المصائب کا لقب بھی دیا گیا ہے4۔

حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے 17ہجری میں عبدالله بن جعفر طیار کے ساتھ شادی کی جن سے بعض مصادر کی بنا پر چار بیٹے ، علی، عون، عباس، محمد اور ایک بیٹی ام کلثوم تھیں5.ہم حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے بعض فضائل کی طرف ذیل میں اشارہ کریں گے۔

حضرت زينب سلام اللہ علیھا کا علم و دانش

بلند ترین علم وہ ہے جو خدا وند متعال سے لیا جائے جسے علم لدنی کہا جاتا ہے امام زین العابدین علیہ السلام کے مطابق، حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا علم بھی علم لدنی تھا۔ اسی لیے آپ سلام اللہ علیھا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

انتِ عالِمَةٌ غَيرَ مُعَلَّمَةٍ وفَهْمَةٌ غَيرَ مفھمَةٍ۔

"پھوپھی جان! آپ سلام اللہ علیھا تعلیم دیے بغیر عالمہ ہیں اور سمجھائے بغیر سمجھدار ہیں"6

جس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت کے دوران، حضرت زینب سلام اللہ علیھا کوفے کی خواتین کو درس تفسیر قرآن دیا کرتی تھیں7. حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی یہ فضلیت عام انسان تو چھوڑیں انبیاء و اولیا علیہم السلام ءمیں بھی فقط چند محدود لوگوں کو ملی ہے۔

عبادت اور بندگی

حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے خود کو عبادت کے ان مراحل تک پہنچا دیا کہ امام حسین علیہ السلام جیسی ہستی نے حضرت زینب سلام اللہ علیھا سے درخواست کی:

’’یا اختي لا تنسيني في نافلة الليل‘‘ ترجمہ: میری بہن! نماز شب میں مجھے مت بھولنا8

امام سجاد علیہ السلام نے اسیری کے دوران،اپنی پھوپھی زینب سلام اللہ علیھا کی عبادت کے بارے میں فرمایا : پھوپھی زینب سلام اللہ علیھا نے کوفے سے شام تک تمام منازل میں تمام واجب اور نافلہ نمازیں پڑھیں یہاں تک کہ بعض اوقات بھوک اور کمزوری کی بنا پر بیٹھ کر عبادت انجام دیتی تھیں9

حضرت زينب سلام اللہ علیھا کی پردہ داری

عورت کی بہترین زینت،عفت وپردہ داری ہے حضرت زینب کبری سلام اللہ علیھا کی پردہ داری کا اس سے بڑھ کر کیا اہتمام ہو گا کہ آپ سلام اللہ علیھا کو واقعہ کربلا سے پہلے کسی نامحرم مرد نے نہیں دیکھا10.اسی لیے جب آپ سلام اللہ علیھا کو بے مقنع و چادر، دربار یزید میں پیش کیا گیا تو احتجاج کرتے ہوئے فرمایا:

" اے ہمارے جد کے آزاد کیے ہوئے غلام زادے! کیا یہ انصاف ہے کہ تمہاری عورتیں اور کنیزیں پردے میں ہوں اور نبی زادیوں کو اسیر کر کے پھیراو اور ان کے نقابوں کو چھین کر ان کے شہروں کو آشکار کرو"11

صبر حضرت زينب سلام اللہ علیھا

قرآن کریم فرماتا ہے:

وَ بَشِّرِ الصّابِرینَ * الَّذینَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصیبَةٌ قالُوا إِنّا لِلّهِ وَ إِنّا إِلَیْهِ راجِعُونَ "ترجمہ: اور ان لوگوں کو خوشخبری دو جو ان پر کوئی مصیبت آنے پر کہتے ہیں : ہم خدا کی جانب سے آئے ہیں اور اسی کی جانب پلٹ کر جانا ہے"12

مصیبتوں پر صبر کا حوصلہ ، اللہ کی مالکیت پر ایمان و یقین کے نتیجے میں ملتا ہے اس بنا پر حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے ایمان کا اندازہ اس جملے سے لگائیے کہ جب ابن زیاد نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

کیف رایت صنع الله باخیک واهل بیتک۔’’ آپ نے اپنے بھائی اور خاندان کے ساتھ خدا کے کام کو کیسے پایا؟

زینب کبری سلام اللہ علیھا نے بڑے صبر و اطمینان سے فرمایا:

ما رأيت الا جميلا "میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا"13

آخر میں خلاصے کے طور پر اتنا کہوں گا کہ مسلمانوں کے لیے خصوصا مسلمان خواتین کے لیے حضرت زینب کبری سلام اللہ علیھا کی زندگی مشعل راہ ہے کہ جس نے بتا دیا کہ زندگی کے ہر موڑ پر بندگی کرنی ہے بلکہ امتحانات الہی کے دوران، اللہ سے زیادہ لو لگانا ہے نیز ہر حالت میں شرعی حدود کا خیال کرنا ہے کہیں حالات کا بہانہ بنا کر شریعت پائمال نہ ہو اور خدا کے ہر امتحان کو ہدیہ الہی سمجھ کر ان پر شکر ادا کرنا ہے اور اس کے خوبصورت انجام پر نگاہ رکھنا ہے جس کے نتیجے میں مصائب و آلام کا تحمل کرنا آسان ہو جائے گا ۔

خداوند متعال ہمیں بھی دین کی سوجھ بوجھ عطا کرے۔آمین


حوالہ

1اعلام النساء: فی عالمی العرب و الاسلام، کحاله، عمر رضا،ج 2، ص91
2السیدة زینب رائدة الجهاد في الإسلام،ص42
3الخصائص الزینبیہ، ص 52 و 53
4اعیان الشیعة،ج 7، ص137
5اعیان الشیعة،ج 7، ص137
6الإحتجاج على أهل اللجاج، طبرسى،ج 2، ص305
7اعلام النساء: فی عالمی العرب و الاسلام، همان، ص 92تا 97
8ذبیح الله محلّاتی، ج 3ص62/ جعفر النقدی ، ص
9زینب الکبری بنت الإمام أمیرالمومنین علي بن أبي طالب ، ص62
10عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات و الأخبار ص 95
11بحار الانوار،ج 45، ص134
12بقرہ ۱۵۵تا ۱۵۷
13بحار الانوار، ج 45، ص 116و115

Gides © 2026 web developtment by GIYF Team | Rights Reserved