چالیس عام الفيل برابر ۶۱۰ ميلادي کے ماہ رجب کی ۲۷ تاریخ میں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا میں اپنے پروردگار سے راز و نیاز میں مصروف تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام امین نازل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آغاز رسالت کی بشارت دیتے ہوئے سوره علق کی ابتدائی پانچ آیات کی تلاوت کی:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِى خَلَقَ*خَلَقَ الاِْنسَانَ مِنْ عَلَق*اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاَْكْرَمُ*الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ*عَلَّمَ الاِْنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ*
اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھیئے! اپنے رب کے نام سے جس نے خلق کیا۔ اس نے انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیئے! اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔
بعد میں یہ دن مسلمانوں میں عید مبعث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے مشہور ہوا اور یقینا یہ بہت بڑی عید ہے کیونکہ اللہ نے اپنے لطف و کرم سے اپنے سب سے عزیز و عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا والوں کی ہدایت کے لیے بھیجا، جس کی مناسبت سے ہم تمام مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
یہاں پر مناسب ہے کہ ہم بنی مکرم کی بعثت کے تین اہم اہداف کی طرف مختصر اشارہ کریں:
قرآن کریم نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ہدف کو یوں بیان کیا ہے:
يا أيُّهَا النَّبِي إنّا أرسَلناكَ شاهِداً و مُبَشِّراً و نَذيراً و داعِياً إلَي اللَّهِ بِإذنِهِ و سِراجاً مُنيراً
اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنایا، بشارت دینے والا، تنبیہ کرنے اور اس (اللہ) کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے1
جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث برسالت ہوئے، جزیرہ عرب انتہائی فکری انحطاط کا شکار تھا نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ انسان اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو اپنا خالق سمجھتے ہوئے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتااور ان کی پرستش کرتا تھا۔ جس قبیلے کا بت جتنا بڑا ہوتا اس قبیلے کو اتنا ہی باوقار سمجھا جاتا تھا اسی وجہ سے خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت نصب تھے۔ جس کا بت نہ ہوتا اس قبیلے کو بے وقعت سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بت پرستی سے منع کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں قولو لا الہ الا اللہ تفلحوا2کا نعرہ بلند کیا کہ جس کا مطلب تھا اے دنیا والو تمہاری نجات اور سربلندی بتوں کی عبادت میں نہیں بلکہ خدائے واحد قہار کے سامنے جھکنے میں ہے بس اگر تم اس کے سامنے سر تسلیم خم ہوئے تو پھر کہیں اور جھکنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ بقول شاعروہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتاہ، ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات۔
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جب کہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے3
پس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا ایک اور مقصد لوگوں کی تعلیم و تربیت ہے جس کی دلیل سورہ علق کی وہ ابتدائی آیات بھی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہلی وحی کے طور پر نازل ہوئیں، جن کا مضمون پڑھنے اور لکھنے پر مشتمل ہے گویا یہ پہلی وحی کی آیات، اسلامی منشور ہے جس کے ذریعے دنیا والوں کو بتایا جا رہا ہے کہ اسلام تعلیم کو عام کرنے کے لیے آیا ہے، اس کا اسلحہ کتاب اور قلم ہے، اب اگر کوئی یہ کہتا ہو کہ اسلام شمشیر کے زور پر پھیلا ہے تو بلکل غلط کہتا ہے اور وہ اسلام کی روح سے جاہل ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اگلا ہدف، معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام تھا جس معاشرے میں کمزورں کے مال کو ہڑپ کرنا بہادری سمجھا جاتا اور قتل وغارت گری پر افتخار کیا جاتا تھا وہاں ظالموں کی سرکوبی اور مظلوموں کی دادرسی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہدف تھا جس کو قرآن نے یوں بیان کیا:
لَقَدْ أرسَلْنَا رُسُلَنا بِالبَیِّناتْ وَ أنْزَلْنا مَعَهُمُ الکِتابَ وَالمِیزانْ لِیَقُومَ النّاسُ بِالقِسْط
بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تاکہ لوگ عدل قائم کریں4
یوں تو بعثت کے اہداف بہت زیادہ ہیں مگر ہم نے مقالے کے اختصار کے پیش نظر تین اہداف پر اکتفا کیا ہے۔ اس عظیم دن کے کچھ اعمال بھی ہیں جو درج ذیل ہیں۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اپنے حبیب کے صدقے آخری حجت، امام زمان عج کے ظہور میں تعجیل عطا فرمائے آمین
1احزاب ، آيه ۴۶ – ۴۵
2مسند احمد، حدیث نمبر ۱۶۰۲۳
3جمعہ۲
4حدید۲۵
5مفاتیح الجنان اعمال ماہ رجب