پچیس رجب امام موسی کاظم علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کا دن ہے جو کہ ہمارے اماموں میں سب سے زیادہ زندانوں میں زندگی کرنے والے امام ہیں اسی بنا پر آج قارئین کرام کی خدمت میں امام علیہ السلام کی زندان کی زندگی کا کچھ تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔ عام طور پر زندان کی بات آتی ہےتو ذہن میں ایک مجبور و بے بس انسان ذہن میں آتا ہے جس کا کام زمانے کا گلہ کرنا اور آہیں بھرنا ہوتا ہے جبکہ آج میں ایسے زندانی کی زندگی کا تذکرہ کرنے جا رہا ہوں جہاں سکوت، خاموشی، بے کاری اور تاریکی نہیں بلکہ اس کے برعکس حرکت، بندگی، تلاش و جدوجہد نظر آتا ہے اسی لیے ہم نے آج کے مقالے کا عنوان "زندان سے درس حیات" رکھا ہے اور اس کے ذیل میں امام موسی کاظم علیہ السلام کی زندان کی زندگی سے چند اہم گوشے کو بیان کرتے ہیں تاکہ مومنین اس مظلوم امام کی زندگی کے ان حالات سے بھی کچھ واقف ہوسکے۔
قرآن کے مطابق طبیعت انسان کچھ یوں ہے کہ جب وہ عیش و عشرت میں ہوتا ہے تو سمجھتا ہے میں اللہ کا محبوب اور پسندیدہ ہوں لیکن اگر کسی سختی اور آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ خدا نے میری توہین و تحقیر کی ہے:
فَأَمَّا الْإِنْسانُ إِذا مَا ابْتَلاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَ نَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ وَ أَمَّا إِذا مَا ابْتَلاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهانَنِ1
لیکن امام کاظم علیہ السلام اور دوسرے آئمہ علیہم السلام کی زندگی میں ایسا نہ تھا وہ ہر حال میں اللہ سے راضی رہتے اور اس کے شاکر ہوتے تھے، اسی لیے امام کاظم علیہ السلام نے جس وقت ہارون رشید کی طرف سے زندان کا دستور صادر ہوا، اللہ کا شکر کرتے ادا کرتے ہوئے فرمایا:
اللّهُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنِّی کُنْتُ اَسْئَلُکَ اَنْ تُفَرِّغَنِی لِعِبادَتِکَ، اَللّهُمَّ وَ قَدْ فَعَلْتَ وَ لَکَ الْحَمْدُ
خدایا! ہمیشہ تجھ سے تیری عبادت کے لیے فراغت چاہتا تھا آج تو نے مجھے وہ فرصت دی ہے جس پر میری تیری حمد بجا لاتا ہوں2.
پس امام علیہ السلام کی زندان کی زندگی کا پہلا درس یہ ہے کہ بندے کو ہر حال میں اپنے رب سے راضی ہونا چاہیے بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی وقت اپنے آقا و پروردگار سے گلہ و شکایت کرے۔
اس بات کی طرف پہلے اشارہ کیا جا چکا کہ لوگ زندان میں حالات کا بہانہ کر کے خود کو مجبور و محبوس سمجھتے ہوئے ہاتھ میں ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوتے ہیں لیکن امام موسی کاظم علیہ السلام کی زندگی میں ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ انسان کو زندان میں بھی زندگی کی حرکت اور اہداف الہی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم کو نہیں روکنا چاہیے بلکہ خود کو اس زندگی سے سازگار بناتے ہوئے تکامل اور بندگی کا راستہ نکالنا چاہیے یوں امام علیہ السلام نے زندان میں تکامل کا طریقہ اپنے رب کی عبادت اور راز و نیاز میں پایا اور تاریخ میں ایسی عبادت انجام دی جس کی نظیر سوائے ان کے جد بزرگوار علی بن ابی طالب و سید ساجدین علیہم السلام کے کہیں نہیں ملتی۔ روایات میں آیا کہ آپ صبح سے شام تک مسلسل عبادت میں ہوتے اور رات بھر قیام و سجود میں گزرتی راوی کہتا ہے کہ میں نے ایک پوری رات امام علیہ السلام کو سجدے کے عالم میں دیکھا اور مسلسل یہ ذکر پڑھتے جا رہے تھے:
عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِكَ فَلْيَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِكَ
تیرے بندے کا گناہ بہت بڑا ہے پس اپنے عفو درگزر کو زیادہ کردے۔
اور آج تک نمازوں کے بعد سجدہ شکر میں پڑھا جانے والا ذکر آپ ہی کا ہے۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ وَ الْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسَابِ
بارالہا! میں تجھ سے موت کے وقت آسانی اور حساب کے دوران عفو و درگزر کا طلبگار ہو3
اگرچہ امام کاظم علیہ السلام زندان اور حالات حاضرہ سے نالاں نہیں تھے بلکہ قضائے الہی پر راضی تھے لیکن بہرحال زندان میں زندگی سے وہ استفادہ نہیں لیا جا سکتا جو آزادی کے عالم میں ہو سکتا ہے اسی لیے امام علیہ السلام اپنے پروردگار سے ہارون رشید کے زندان سے خلاصی کی دعا کرتے تھے اور آج بھی کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی زندان میں بند ہو اوراس سے رہائی چاہتا ہو تو ضرور یہ دعا پڑھے:
يا مُخَلِّصَ الشَّجَرِ مِنْ بَيْنِ رَمْلٍ وَ طينٍ وَ مآءٍ وَ يا مُخَلِّصَ اللَّبَنِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَ دَمٍ وَ يا مَخَلِّصَ الْوَلَدِ مِنْ بَيْنِ مَشيمَةٍ وَ رَحِمٍ وَ يا مُخَلِّصَ النّارِ مِنْ بَيْنِ الْحَديدِ وَ الْحَجَرَِ وَ يا مُخَلِّصَ الرُّوحِ مِنْ بَيْنَ الاَحْشآءِ وَالاَْمْعآءِ خَلِّصْنى مِنْ يَدَىْ هارُونَ
اے درخت کو ریت اور مٹی کے درمیان سے نکالنے والے اور اے دودھ کو گوبر اور خون کے درمیان سے نکالنے والے اور اے بچے کو جھلی اور رحم کے درمیان سے نکالنے والے، اے آگ کو لوہے اور پتھر کے درمیان سے نکالنے والے اور اے روح کو پسلیوں اور اوجھڑیوں سے نکالنے والے! مجھے ہارون کے ہاتھ
نوٹ: اگر کوئی دوسرا زندانی اس دعا کو پڑھنا چاہے تو ہارون کے بجائے اسی شخص کا نام لے جس نے اس کو زندان کیا ہے۔ پس ہر انسان کو حالت حاضرہ سے راضی رہنے کے علاوہ بہتر مستقبل کی سعی و تلاش بھی کرنا چاہیے۔
اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً
ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے4
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اللہ یہ نہیں فرما رہا کہ ہر سختی کے بعد آسانی ہے بلکہ فرما رہا ہے کہ سختی کے ہمراہ اور ساتھ آسانی ہے اگر اس کو ہم امام کاظم علیہ السلام کے زندان کی زندگی میں دیکھیں تو اس آیت کی تفسیر بہت اچھی طرح نظر آتی ہے، ایک طرف تو ہارون رشید کی سختیاں ہیں جس کا اندازہ اس صلوات کے جملوں سے ہوتا ہے جن کو شیخ عباس قمی نےسید بن طاووس نقل کیا:
... و المعذب فی قعر السجون و ظلم المطامیر ذی الساق المرضوض بحلق القیود
صلوات ہو موسی بن جعفر پر جن پر زندانوں کی گہرائیوں اور تاریکیوں میں تشدد کیا جاتا رہا اور جن کی پنڈھلیاں غل و زنجیروں کی بنا پر گھل گئی تھیں5
لیکن ساتھ ساتھ آپ علیہ السلام کی حیات طیبہ کی خوشبو زندان کے در و دیوار پر بھی اثر انداز ہو رہی تھی۔ آپ علیہ السلام کی عبادت، زہد و پارسائی کے مسلسل مشاہدے کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ہارون رشید نے تاریخ کے ظالم و شقی ترین انسانوں کے زندانوں میں آپ علیہ السلام کو رکھا، جن میں سب سے پہلے عیسی بن جعفر کے زندان میں رکھا اور کچھ عرصہ بعد اس سے آپ کو قتل کرنے کا تقاضا بھی کیا مگر وہ آپ علیہ السلام کی عظمت کا مشاہدہ کر کے انکاری ہوا، پھر یحیی بن فضل اور اس کے بعد فضل بن ربیع کے پاس بھی رہے اور آپ علیہ السلام کا انداز مسلسل ان کو متاثر کرتا رہا بالآخر سندی ملعون کے پاس آپ کو منتقل کیا گیا جہاں آپ علیہ السلام کی شہادت اسی ظالم کے ہاتھوں واقع ہوئی۔ 6
اس سختی کے ہمراہ زندان بانوں کے دلوں کو موم کرتے ہوئے آسانی پیدا کرنا اور اپنی حیات طیبہ کے چراغ کو آگے بڑھانا امام موسی کاظم علیہ السلام کی زندگی کا درس ہے کیونکہ اگر آپ علیہ السلام کی بندگی اور کردار کی عظمت کا مشاہدہ نہ کرتا تو پہلا زندان بان ہی آپ علیہ السلام کی زندگی کا خاتمہ کرتا مگر یہ آپ علیہ السلام کے تقوی و پارسائی اور عظمت کی بلندی کا نتیجہ تھا کہ زندان کے مالکان آپ علیہ السلام کے بے گناہ خون سے اپنے ہاتھوں کو نہیں رنگنا چاہتے تھے فقط سندی ملعون چونکہ غير مسلم تھا جو اسلام دشمنی کی بنا پر اس کام پر آمادہ ہوا پس آج مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ اس کا عمل و کردار ایسا ہو کہ دوست اور دشمن سبھی اس کے اچھے انسان ہونے کی گواہی دیں۔ بہرحال سندی ملعون نے آپ علیہ السلام کو زہر دینے کے بعد کچھ لوگوں کو بلایا تا کہ آپ علیہ السلام کیے طبیعی طور پر مریض ہونے اور رحلت کی گواہی دیں پھر شہادت کے بعد جسر بغداد میں آپ کے تابوت کو رکھا گیا جہاں سے اٹھا کر شیعوں نے آپ علیہ السلام کو کاظمین میں دفنا دیا۔7
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ امام کاظم باب الحوائج کے صدقے امام زمان عج کے ظہور میں تعجیل عطا فرما اور بے گناہ قید یوں کو جلد رہائی عطا فرما۔ آمین
1نمبر ۱۶ و ۱۵فجر
2الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۴۰
3الارشاد، ج۲، ص۲۳۲-۲۳۱
4شرح ۵و۶
5شیخ عباس قمی، انوارالبحیه، ص ۲۰۶
6نمبر ۱۲۴شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق. ج۲، ص۲۳۹
7الارشاد، ج ۲، ص ۲۱۵