سب سے پہلے تمام مومنین و مومنات کو امیر المومنین علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے تبریک و تہنیت عرض کرتے ہیں۔ اس مقالے کو امیرالمومنین، یعسوب الدین اور امام المتقین کی ولادت اور شخصیت پر لکھا جا رہا ہے، آپ علیہ السلام کی ذات اس قدر بلند و باعظمت ہے کہ ہم جیسے کوتاہ بین افراد ان کی کیا تعریف کریں کیونکہ وہ ہستی ہیں جس کے مدح خواں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو وہاں کسی بشر کی طاقت نہیں کہ وہ ان کی برابری کر پائے یا اس کا طائر فکر ان کی عظمت کی چوٹی سے گذر پائے لیکن ہمارا بھی کچھ حصہ اظہار عقیدت میں شامل ہوجائے اس اعتبار سے کچھ مطالب پیش خدمت ہیں تاکہ ان کی نگاہ کرم ہمارے شامل حال ہوپائے(انشاء اللہ)
امام علی علیہ السلام، روز جمعہ ۱۳ رجب سال سن ۳۰ عام الفیل کو مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر متولد ہوئے۔ امیرالمومنین علیہ السلام کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کے بارے میں تمام شیعہ علماء کے ساتھ ساتھ اکثر علمائے اہل سنت کا بھی اتفاق ہے شیعوں میں سید رضی، شیخ مفید، قطب راوندی، ابن شہرآشوب جبکہ اہل تسنن میں حاکم نیشابوری، حافظ گنجی شافعی، ابن جوزی حنفی، ابن صباغ مالکی، حلبی و مسعودی خانہ کعبہ میں ولادت کو محل تواتر مانتے ہیں1.
حضرت علی علیہ السلام سب سے پہلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔ شیعوں کے مطابق امیر المومنین علیہ السلام، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی بنا پر، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین بلافصل ہیں2، قرآن کریم کی آیات ان کی عصمت و طہارت پر دلالت کرتی ہیں3. شیعہ اور اہل سنت کے بھی بعض مصادر کی بنا پر قرآن کریم کی تقریبا ۳۰۰ آیات، آپ علیہ السلام کی فضیلت میں نازل ہوئیں نیز آپ علیہ السلام حضرت فاطمہ علیہا السلام کے شوہر اور ابو الآئمہ ہیں4.
جس وقت قریش والوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جان سے مارنے کا ارادہ کیا اس وقت حضرت علی علیہ السلام ان کے بستر پر سوئے تاکہ دشمن دھوکہ کھائے یوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخفیانہ ہجرت کی5. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں جب صحابہ کے درمیان عقد اخوت قائم کیا تو خود اپنے لئے آپ علیہ السلام ہی کا انتخاب کیا۔ انہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوائے تبوک کے تمام غزوات میں شرکت کی۔ وہ اسلام کے قابل افتخارسپاہ سالار تھے6.
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد ایک گروه نے سقیفہ بنی ساعدہ میں، ابوبکر کی خلیفہ کے عنوان سے بیعت کی، اس طرح امام علیہ السلام ۲۵ سال خلافت سے دور رہے۔ آپ علیہ السلام نے ابتدائی تین خلفاء کے بعد مسلمانوں کے اصرار پر خلافت و حکومت کو قیام عدل کے لئے قبول کیا7. امیر المومنین علیہ السلام اپنی مختصر خلافت کے دوران، تین داخلی جنگوں کا شکار ہوئے اور آخر کار مسجد کوفہ کے محراب میں حالت نماز میں ایک خارجی کے ہاتھوں زخمی اور شہید ہوئے اور مخفیانہ نجف میں دفن کیے گئے8.
یہاں تک اس شہرہ آفاق شخصیت کی زندگی کا مختصر سا خلاصہ تھا لیکن اگر ان کی زندگی کے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالنا چاہیں تو پھر بات بہت طولانی ہو جائے گی مگر ہم اس مقالے کی گنجائش کی حد تک چند اہم پہلووں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ امام علی علیہ السلام ولایت تشریعی کے علاوہ، ولایت تکوینی کے حامل تھے یہ معنوی مقام، خلافت کلی الهی کا مقام ہے لہذا تمام ذرات عالم ولی امر الہی کے سامنے خاضع و تسلیم ہیں اور وہ اذن خدا سے کائنات پر تصرف کرسکتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ علیہ السلام کی امامت و خلافت باقی سابقہ تمام خلفاء سے منفرد و جداگانہ تھی.
ہر حالت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنے والی اس ذات نےانہی سے علم وحکمت سیکھی لہذا آپ آیات قرآن کے شان نزول و شرائط نزول کو جانتے تھے۔ وہ باب مدينة العلم تھے، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام کے لیے علم کے ہزار باب کھولے جس کے ہر باب سے آپ علیہ السلام نے مزید ہزار باب مزید کھلے9.
عبادت سے عشق اور طولانی مناجات شب و روز میں ہزار رکعت نماز کا پڑھنا حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی کے بس میں نہ تھا تمام جن وانس اور ملک یعنی فرشتے میں بھی علی کے ایک لا اله الا اللہ کہنے کی تاب نہیں ہے.
امام علی علیہ السلام کی زندگی انتہائی سادہ تھی، ان کی غذا، روٹی، سرکہ، زیتون اور نمک سے زیادہ نہ تھی۔ آپ علیہ السلام معاشرے کے نچلی سطح کے لوگوں کی مانند زندگی کرتے تھے۔ لباس خریدتے تو اچھا لباس اپنے غلام قمبر کو عطا کرتے اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقط حضرت علی علیہ السلام کے حوالے معاشرے کو کرتے تو ان کی حقانیت کے لیے کافی تھا اور اگر ان کی بعثت کا فلسفہ حضرت علی علیہ السلام جیسے ایک شخص کی تربیت سے ہوتی تو بھی کافی تھا.
امام علی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے ابتدائی دنوں میں ہی اس غلط سنت کے مقابلے میں قیام کیا جو سابقا رائج کردی گئی تھی کہ وہ بیت المال کو مختلف افراد میں غیر اسلامی معیارات پر تقسیم کرتے تھے جبکہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: بیت المال کو لوگوں میں مساوی تقسیم کریں کیونکہ میں نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے لیکن اول سے آخر تک کہیں بھی فرزندان اسماعیل (اعراب مکہ) کو فرزندان اسحاق (غیرعرب) پر کوئی فضیلت نہیں پائی10.
آپ علیہ السلام نے عمار یاسر اور ابوالهیثم بن تیهان کو بیت المال کا مسئول بنایا تھا جنہیں دستور تھا کہ عرب وعجم اور ہر مسلمان خواہ وہ کسی بھی قوم و قبیلے کا ہو سب کو مساوی بیت المال کا حصہ دیا جائے11.
مذکورہ بالا صفات میں سے ہر ایک، اخلاق و انسانیت کی اتنی اعلی سطح پر ہے کہ اس صفت کا طالب انسان، مسلم ہو کہ غیر مسلم، ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام کے سامنے خاضع نظر آتا ہے خواہ ابن حدید معتزلی ہو کہ جورج جورداق مسیحی سبھی ان اخلاق حمیدہ میں محو ہو کر اس عظیم انسان کی مدح سرائی میں رطب اللسان نظر آتے ہیں .
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی امام المتقین کی صفات حمیدہ سے کسب فیض کرنے کی توفیق عطا کرے.
1الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، ج۶، ص۲۱-۲۳
2مائده/سوره۵، آیه۶۷
3احزاب، ۳۳
4سیوطی ، تاریخ الخلفاء، ص۱۸۹
5بحارالانوار، ج۱۹، ص۵۹
6المستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص۱۶
7ابن ابی الحدید معتزلی، عبدالحمید، شرح نهج البلاغه، ج۶، ص۵
8بحارالانوار، ج۴۲، ص۲۹۰
9جواهر الاصول، ج۴، ص۵۰۱-۵۰۰
10شیخ مفید، اختصاص، ص۱۵۱
11معارف و معاریف، ج۷، ص۴۵۷