Articles

Birth Anniversary of Imam Zain ul Abideen (as)


By Sheikh Ghulam Mehdi Hakimi
Date : Friday 23 Jan 2026

جنت البقیع، مدینہ
لقب
زین العابدین اور سجاد
والد
امام حسین علیہ السلام
والدہ
شہربانو
تاریخِ پیدائش
جمادی الاول ۱۵ اور شعبان ۵
جائے پیدائش
مدینہ
شہادت
محرم ۲۵
زوجہ
فاطمہ بنت امام حسن علیہ السلام
مدفن
مدینہ

ولادت

امام علی بن الحسين علیہ السلام، شیعوں کے چوتھے امام ہیں جو مشہور قول کی بنا پر، سال 38 ہجری میں مدینہ میں متولد ہوئے1.بعض مصادر میں سال 35 و 36 کو بھی آپ علیہ اسلام کی ولادت کا سال کہا گیا2. آپ علیہ اسلام کا روز تولد، بعض منابع میں ۵ شعبان ذکر ہوا ہے3۔

نیز بعض منابع میں ۹ شعبان4 اور بعض دیگر میں ۱۵ جمادی الاولی کو روزِ ولادت لکھا گیا ہے5.

امام زین العابدین علیہ السلام کی والدہ گرامی

امام زین العابدین علیہ السلام کی والدہ گرامی کے بارے میں، اگرچہ کچھ چیزوں میں اختلاف ہے مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ ایران کے کسی مشہور سردار کی بیٹی تھی شیعوں کے قدیمی ترین مصادر جیسے، وقعة صفین6 تاریخ یعقوبی7 بصائر الدرجات8 و تاریخ قم9 وغیرہ جو سب سوم و چهارم صدی میں تألیف ہوئی ہیں نیز امام صادق علیہ السلام کی ایک روایت10.

اسی طرح شیخ مفیدؒ نے بھی اس مطلب کی تائید کی ہے اور اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی والدہ، حضرت شاه زنان بنت یزدگرد تھیں جن کا اصلی نام،شہر بانو تھا11. مرحوم طبرسىؒ نے بھی کتاب تاج الموالید میں تصریح کی ہے کہ على بن الحسین علیہ السلام کی والدہ، شہربانو بنت یزدگرد تھیں12. چوتھے امام علیہ السلام کے مشہور ترین القاب میں زین العابدین اور سجاد ہیں۔

امام زین العابدین علیہ السلام کا مقام و منزلت

امام على بن الحسین علیہ السلام کے بارے میں جب کہا جاتا ہے کہ آپ زین العابدین علیہ السلام تھے تو ممکن ہے بعض کے ذہن میں تصور آجائے کہ آپ علیہ السلام دنیا سے کٹ کر کسی گوشے میں مصروف عبادت رہتے تھے اور ان کو لوگوں سے کوئی سروکار نہ تھا اور نہ لوگوں میں مشہور تھے، جی نہیں! آپ علیہ اسلام عبادت میں زبان زد عام ہونے کے باوجود معاشرے کی راہنمائی اور لوگوں کی مدد اور ان کا ہاتھ بٹانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ السلام تمام مسلمانوں میں محبوب ترین شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ یہاں پر ہم اس بات کے ثبوت کے طور پر چند اکابر اہل سنت کے اقوال کو بیان کریں گے جو انہوں نے آپ علیہ اسلام کے حوالے سے رقم کئے گئے ہیں:

اہل سنت کے مشہور عالم جاحظ، على بن الحسین علیہ اسلام کی شخصیت کے بارے میں کہتا ہے: شیعہ ہو یا معتزلى، عوام ہوں کہ خواص سبھی علی بن حسین علیہ السلام کے بارے میں یکسان نظر رکھتے ہیں اور آپ علیہ السلام کے دوسروں پر برتر اور افضل ہونے میں کوئی تردید نہیں کرتا13.

ابن ابى‌ الحدید کہتا ہے: یہ جلیل القدر امام علیہ السلام اپنے زمانے میں تین ناموں سے مشہور تھے:

عَلَى الْخَیْرِ ،عَلَى الْأَعَزِّ وَ عَلَى الْعَابِدِ علی خیر، علی اعز(باعزت) اور علی عابد14

اہل سنت کے علم رجال کے مشہور عالم، ابن حبّان، اپنی کتاب الثقات میں کہتا ہے: علی بن حسین علیہ السلام کو ان کی حیات میں، زین العابدین کہا جاتا تھا اور ہمو مى‌ لکھتا ہے:

کَانَ مِنْ أَفَاضِلِ بَنَى هَاشِمٍ مِنَ فُقَهَاءِ المدینه وَ عُبَّادُهُمْ وہ بنی ہاشم کے بزرگ، اور مدینے کے فقیہ اور عابد تھے15

جی ہاں! امام زین العابدین علیہ السلام کے تمام مسلمانوں کا مددگار اور غمخوار ہونے کا ثبوت وہ روایات ہیں جو آپ علیہ السلام کے بارے میں تاریخ میں نقل ہوئی ہیں۔

چنانچہ کتاب مختصر تاریخ دمشق میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے: امام سجاد علیہ السلام رات کے وقت، اپنی پیٹھ پر روٹیاں لادتے اور رات کی تاریکی میں اپنی پیٹھ پر روٹیاں لاد کر فقراء کی تلاش میں چلتے اور فرماتے تھے: رات کی تاریکی کا صدقہ، غضب خدا کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے16.

اہل سنت عالم ذہبى کی کتاب سیر اعلام النبلاء میں پڑھتے ہیں: محمدبن اسامہ بن زید، مرتے وقت رو رہے تھے۔ امام سجاد علیہ السلام نے جو اس کے سرہانے حاضر تھے، اس گریہ کا سبب پوچھا تو کہا کہ میں پندرہ ہزار درہم کا مقروض ہوں آپ علیہ السلام نے فرمایا: پریشان نہ ہو یہ قرض میرے ذمے ہے17.

جی ہاں! بعض روایات کے مطابق مدینے کے ایک سو فقیر گھرانے آپ علیہ السلام کی زیر کفالت تھے مگر ہمیشہ اپنے چہرے کو چھپا کر مخفیانہ ان کی مدد فرماتے اسی وجہ سے لوگ آپ علیہ السلام کو نہیں پہچانتے تھے اور لوگوں کو تب پتہ چلا جب آپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے18.

امام علیہ السلام کے مذکورہ بالا صفات حمیدہ میں چند نکات ہیں جو ہم پیروکارں کے لیے مشعل راہ ہیں:

پہلا نکتہ انسان کا مل

نہ وہ انسان کامل ہے جس کا کام فقط عبادت کرنا ہے اور نہ وہ انسان جو فقط دنیا میں محو ہو چکا ہے اور خدا کو فراموش کر چکا ہے بلکہ بہترین انسان وہ ہے جو عبادت الہی کی بنا پر محبوب خدا ہونے کے علاوہ، خدمت خلق کی وجہ سے محبوب خلائق بھی بنے کیونکہ خدمت خلق بھی عبادت کا ایک حصہ ہے جس سے انسان کمال کی طرف گامزن ہوتا ہے.

دوسرا نکتہ پوشیدہ طریقے سے امداد

انسان اپنے کاموں میں حتی الامکان ریاکاری سے پرہیز کرے اور مخفیانہ انجام دے تاکہ مخلصین کے زمرے میں شامل ہو سکے.

تیسرا نکتہ امداد مگر عزت نفس کی حفاظت کے ساتھ

امیر انسان اگر غریبوں کی مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ ان کے دروازے پر لے جا کر دے تاکہ اس کی عزت نفس کو ٹھیس نہ لگے نہ یہ کہ غریبوں کو اپنے دفتر یا گھر بلا کر سب کے سامنے اس کو راشن دیتے ہوئے تصاویر کھینچے کہ جس سے غریب کی عزت و آبروختم ہو جائے کیونکہ اس طرح کے برتاؤ کا ہمارے آئمہ علیہم السلام کی سیرت سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں آئمہ علیہم السلام کی سیرت کے ان سنہرے پہلوؤں پر عمل کریں تو یقینا سعادت دارین کا مستحق قرار پائیں گے.

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ امام زمان عج اللہ تعالی کے ظہور میں تعجیل عطا کرے. آمین


حوالہ

1الارشاد، ص۲۸۴
2إقبال الأعمال، ابن طاووس، ص ۶۲۱
3کشف الغمة، ج ۲، ص ۱۰۵
4روضة الواعظین، ص ۲۴۲
5مصباح المتہجد، ص ۷۳۳
6وقعة صفين ص ۱۲
7تاريخ اليعقوبى، ج ۲، ص ۳۳۵
8بصائر الدرجات في فضائل آل محمّد ص ۹۶
9تاريخ قم، ص ۱۹۶
10الکافی، ج ۲، ص ۳۶۹
11الإرشاد ج ۲، ص ۱۳۷
12تاج الموالید، طبرسى، ص ۸۸
13عمدة الطالب، ص ۱۹۳
14شرح نہج‌البلاغہ، ابن أبی الحدیدج ۱۵، ص ۲۷۳
15الثقات، ج ۵، ص۱۶۰
16الثقات، ج ۵، ص۱۶۰
17سیر اعلام النبلاء، ج ۴، ص ۲۹۱
18بحارالانوار، ہمان، ج ۴۶، ص ۶۲

Gides © 2026 web developtment by GIYF Team | Rights Reserved