Articles

Martyrdom of Lady Fatima Zehra (sa)


By Sheikh Ghulam Mehdi Hakimi
Date : Wednesday 5 Nov 2025

جنت البقیع، مدینہ
لقب
اُم ابیھا
والد
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
والدہ
بی بی خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا
تاریخِ پیدائش
۲۰ جمادی الثانی
جائے پیدائش
مکہ
شہادت
۱۳ جمادی الاول
شوہر
امام علی علیہ السلام
مدفن
مدینہ (آپ کی قبر پوشیدہ ہے)

آج کا مقالہ سیدہ نساء العالمین جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومانہ شہادت کی مناسبت سے لکھا جارہاہے۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کے پہلو اتنے زیادہ اور عمیق ہیں کہ اس مختصر مقالے میں اس کو سمیٹنا ناممکن ہے لیکن جس حد تک ممکن ہے ہم خلاصۃ ان کی سیرت کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

  1. بہترین امکانات سے بہرہ مند ہونے کے باوجود کمترین وسائل زندگی پر قناعت کرنا۔
  2. اپنی پسندیدہ اور ضرورت کی اشیاء میں انفاق و ایثار کرنا۔
  3. اللہ تعالی کی بارگاہ میں خالصانہ عبادت وبندگی۔
  4. حیا وعفت کا پیکر۔
  5. اسلامی لباس و حجاب کا مکمل نمونہ۔
  6. رحلت پیغمبر ﷺ کے بعد مقام ولایت حضرت علی علیہ السلام کی پاسداری۔
  7. علم و دانش کی معراج۔

علم و دانش کی معراج

اب مندرجہ بالا صفات میں سے آخری صفت ہی کو لے لیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا علمی مقام کیا ہے اور آپ سلام اللہ علیہا کو قرآن و معارف دینی کا علم پروردگار کی جانب سے عطا تھا جس کا بہترین نمونہ خطبہ فدک ہے، جو آپ سلام اللہ علیہا نے حاکم وقت کے دربار میں دیا، جس میں حسبنا کتاب اللہ کے نعرے لگانے والوں کے مدعی کو قرآن کریم ہی کی کئی آیات سے رد کرتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ کتاب خدا سے کتنا اجنبی ہے۔ اس خطبے کے سات حصے ہیں، جس کے پہلے حصے میں خدا کی حمد جبکہ دوسرے میں رسول ﷺ کی نعت کے بعد تیسرے حصے میں فلسفہ واجبات کو کچھ یوں بیان فرمایا ہے:

فلسفہ واجبات

ایمان: شرک سے دوری،
نماز: تکبر سے دوری،
زکوة :تزکیہ نفس و وسعت رزق،
روزہ: اخلاص،
حج: استحکام دین،
عدل: دلوں کی ہم آہنگی،
اطاعت اہل بیت علیہم السلام: دینی امور میں نظم و ضبط،
مامت: اختلافات سے دوری اور ایک مرکز میں جمع ہونا،
جہاد: اسلام کی عزت اور کفر کی ذلالت،
صبر: اجر و ثواب،
امر بمعروف: معاشرے کی مصلحت،
والدین سے احسان: غضب خدا سے امان،
صلہ رحمی: طول عمر اور نسل میں برکت،
قصاص: لوگوں کی جانوں کی حفاظت،
نذر: عفو و بخشش ۔۔۔

آپ کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مندرجہ بالا سنہرے کلمات سے اندازہ ہوا ہوگا کہ انہیں دینی معارف میں کس قدرعبور اور تسلط تھا کہ ایک ہی لڑی میں سارے اہم ترین احکام کے علل و اسباب کو کس خوبصورتی سے پرویا ہے !

علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں عورت کے مقام کو بیان کرتے ہوئے یوں کہا ہے۔

مکالمات افلاطون نہ لکھ سکی لیکن ۔۔۔اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطون

اقبال کے مطابق عورت مکالمات افلاطون نہیں لکھ سکی اگرچہ ان مکالمات کا باعث تھیں لیکن اگر مجھے علامہ سے مخاطب ہونے کا موقع ملتا تو ضرور کہتا کہ آپ سلام اللہ علیہا اگر اغلب کی بات کر رہے ہیں تو شاید ٹھیک ہو وگرنہ آپ نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبوں اور اسی طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبوں کو پڑھا ہوتا تو کبھی یہ شعر نہ کہتے یا کم از کم کچھ عورتوں کو استثناء کرتے۔ جی ہاں! جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا خطبہ فدک، فقط اپنا مدعا پیش کرنا نہیں تھا بلکہ خلافت کے دعویداروں کو اسلام کا آئینہ دکھانا مقصود تھا۔

شہادت

آپ سلام اللہ علیہا شہادت کے بارے میں دو قول نقل ہوئے ہیں:

پہلا قول: یہ ہے کہ آپ سلام اللہ علیہا، رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد ۷۵ دن بعد شہید ہوئیں لہذا امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

إِنَّ فاطِمَةَ(عليها السلام) مَكَثَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللهِﷺ خَمْسَةَ وَ سَبْعينَ يَوْماً فاطمہ سلام اللہ علیہا، رسول اللہ ﷺ کے بعد ۷۵ دن زندہ رہیں اس قول کی بنا پر آپ سلام اللہ علیہا کی شہادت ۱۳ جمادی الاول میں واقع ہوئیں ہے1

دوسرا قول: حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے ۹۵ دن بعد شہید ہوئیں، جس کی بنا پر آپ سلام اللہ علیہا کی شہادت، 3 جمادى الثانی 11 ہجری میں واقع ہوئی2

شہادت کا سبب

بحار الانوار میں سبب شہادت کو کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:

وَ كانَ سَبَبُ فَوْتِها أَنَّ قُنْفُذَ مَوْلى عُمَرَ لَكَزَها بِنَعْلِ السَّيْفِ بِأَمْرِهِ فَأَسْقَطَتْ مُحْسِناً وَ مَرِضْتَ مِنْ ذلِكَ مَرَضاً شَديداً آپ سلام اللہ علیہا کی شہادت کا سبب، ایک ظالم کے غلام قنفذ کے قبضہ شمشیر کی وہ ضربت تھی جو اس نے اپنے ظالم آقا کے حکم سے لگائی جس کی وجہ سے حضرت محسن علیہ السلام شہید ہوئے اور آپ سلام اللہ علیہا سخت بیمار ہوئیں3

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وصیت

آخر میں ہم حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وصیت کے ایک جملے پر اپنے مقالے کا اختتام کرتے ہیں جس میں ہماری شوہر دار خواتین کے لیے بہترین سبق موجود ہے:

یابْنَ عَمِّ ما عَهِدْتَنی کاذِبةً وَلا خائِنَةً وَلا خالَفْتُک مُنْذُ عاشَرْتَنی اے میرے چچا زاد! آپ نے مجھے کبھی جھوٹی اور خیانت کار نہیں پایا نیز ازدواجی زندگی کے آغاز سے میں نے کبھی آپ کی مخالفت نہیں کی4

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی کنیزوں کو ان کی وصیت ہے۔ کہ شوہر داری میں تین چیزوں کا اہتمام آپ سب پر واجب ہے:

اول: شوہر سے کبھی جھوٹ نہ بولو اس کے ساتھ سچی گفتگو کے ساتھ زندگی کرو۔
دوم: خلوت اور جلوت میں اس سے خیانت نہ کرو۔
سوم: شوہر کی سرپرستی کو مانو اور اس کی اطاعت کرو اور کبھی اس کی مخالفت نہ کرو اگر ایسا ہوا تو یقینا وہ گھر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے سچے پیروکاروں کا اور اسی دنیا میں ان کا گھر کی طرح جنت نظیر ہو جائے گا۔ (ان شاء اللہ)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ امام زمان عج کے ظہور میں تعجیل عطا کرے آمین


حوالہ

1الكافي، ج ‏۱، ص ۴۵۸، باب (مولد الزهراء فاطمة)
2دلائل الإمامۃ، طبرى آملى صغير، محمد بن جرير بن رستم‏، محقق / مصحح: مؤسسة بعثت، بعثت‏، قم‏، ۱۴۱۳ ق، ‏چاپ اول‏، ص ۱۳۴
3بحار الأنوار، ج ‏۴۳، ص ۱۷۰
4بحارالانوار، ج ۴۳، ص ۱۹۱

Gides © 2026 web developtment by GIYF Team | Rights Reserved