Articles

Arbaeen (Chelum of Imam Hussain as)


By Maulana Ali Asghar Hidayati
Date : Wednesday 13 Aug 2025

اربعین سے مراد سن ۶۱ ھ کو واقعۂ کربلا میں امامِ حسین علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اصحاب کی شہادت کا چالیسواں ہے، جو ہرسال۲۰ صفر المظفر کو منایا جاتا ہے۔

حضرتِ جابر ابنِ عبد اللہ انصاری اور روزِ اربعین

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور صحابی جابر ابنِ عبداللہ انصاری کو۲۰ صفر المظفر، سید الشہداء امام ِ حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد سب سے پہلےان کی زیارت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

جابر ابنِ عبد اللہ انصاری جب عطیہ ابنِ عوفی کے ہمراہ زیارت کے کئے کربلا تشریف لائے تو حضرت جابر نابینا اور ضعیف تھے لہذا نہر فرات میں غسل کرنے کے بعد عطیہ کی مدد سے قبرِمطہر تک پہنچے اور بے ہوش ہوگئےاور جب افاقہ ہوا تو تین بار ”یا حسین علیہ السلام“ کی صدا بلند کی اور پھر ان کو دیگر شہداء کی زیارت کا بھی شرف حاصل ہوا۔ 1

اسیرانِ کربلا اور روزِ اربعین

بعض علمائے کرام کا یہ نظریہ ہے کہ اسیرانِ کربلا سن ۶۱ ھ کو ہی شام سے رہا ہو کر مدینہ جانے سے پہلے عراق گئے اور ۲۰ صفر المظفر (یعنی روزِ اربعینِ امامِ حسین علیہ السلام اور اصحابِ امامِ حسین علیہ السلام)کو سرزمینِ کربلا پر پہنچے اور جب یہ قافلہ کربلا پہنچا تو حضرتِ جابر اور بنی ہاشم کے بعض افراد وہاں موجود تھے۔ ان سب نے گریہ و زاری کی حالت میں ایک دوسرے سے ملاقات کی، اپنے چہروں پر ماتم کیا۔ ان تمام لوگوں کو اس دن امامِ حسین علیہ السلام اور دیگر شہداء کی قبروں کی زیارت کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ 2

شیخِ صدوقؒ، سید ابنِ طاؤوسؒ، شیخِ بہائیؒ، علامۂ مجلسیؒ اور دیگر علمائے شیعہ کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ امامِ حسین علیہ السلام اور دیگر اصحاب کے سر ،اسیرانِ کربلا شام سے رہائی کے وقت لے کر چلے تھے اور مدینہ جانے سے پہلے جب کربلا گئے تو شہداء کے سروں کے ان کے اجسامِ مطہر کے ساتھ ملحق کر دیا تھا۔

زیارتِ اربعین

روزِ اربعینِ امامِ حسین علیہ السلام کی زیارت بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ یہ عمل مومن کی علامتوں میں سے ایک ہےکہ امامِ حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:

عَلاَمَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ صَلاَةُ إِحْدَى وَ خَمْسِينَ وَ زِيَارَةُ اَلْأَرْبَعِينَ وَ اَلتَّخَتُّمُ بِالْيَمِينِ وَ تَعْفِيرُ اَلْجَبِينِ وَ اَلْجَهْرُ بِ‍بِسْمِ اَللّٰهِ اَلرَّحْمٰنِ اَلرَّحِيمِ

مومن کی پانچ علامتیں ہیں:

  1. ۵۱ رکعت نماز انجام دینا
  2. روزِ اربعین امامِ حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا
  3. دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا
  4. خاک پر سجدہ کرنا
  5. بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنا3

زیارتِ اربعین کا متن دو طرح کا ہے کہ ایک شیخِ طوسیؒ نے صفوانِ جمّال کے ذریعے امامِ جعفرِ صادق علیہ السلام سے نقل کیا اور دوسرا عطاء سے نقل ہوا ہے (یہ عطاء وہ ہی عطیہ ابنِ عوفی کوفی ہیں جن کا ذکر اس تحریر کے ابتداء میں ہوچکا ہے) کہ جب عطا کے ساتھ جنابِ جابر ۲۰ صفر المظفر سن ۶۱ ھ میں کربلا پہنچے تو برہنہ پا قبرِامامِ حسین علیہ السلام پر پہنچے اور امام حسين علیہ السلام کے سرہانےکھڑے ہو کر تین پر تکبیر بلند کی اور پھر بے ہوش ہوگئےاور جیسے ہی افاقہ ہوا تو زیارت پڑھنا شروع کی جس کا ابتدائی فقرہ یہ ہے:

اَلسَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا آلَ اَللّهِ اے اللہ کی آل! آ پ علیہ السلام پر سلام ہو

زیارتِ اربعین میں موجود مضامین

  1. زیارت کے پہلے حصّے میں امامِ حسین علیہ السلام پر درود و سلام بھیجنے کے ساتھ آپ علیہ السلام کی عظیم شہادت اور آپ کے مصائب کو بیان کیا گیا ہے۔
  2. اگلے حصّے میں بعض عقائدِ امامیہ پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ ولایتِ چہاردۂ معصومین علیہم السلام کی گواہی دی گئی اور امامِ حسین علیہ السلام کا وارثِ انبیا علیہم السلام ہونا اور مخلوقات ِ خدا پر حجّت ہونا بیان کیا گیا ہے۔
  3. اور اس زیارت میں یہ بیان ہوا ہے کہ امامِ حسین علیہ السلام کی شہادت ،انسانیت کو جہالت اور گم راہی سے نجات دلانے کے واسطے تھی۔
  4. ایک حصّے میں قاتلانِ امامِ حسین علیہ السلام سے اظہار بے زاری کی گئی ہے۔
  5. امامِ حسین علیہ السلام کی کچھ خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان ہو ا ہے کہ سیدالشہداء کی ذریّت خدا کی حجّت ہیں۔
  6. زائر اس زیارت میں اعلان کرتا ہے کہ وہ چہاردۂ معصومین علیہم السلام کے حکم کی اتباع اور ان کی حمایت کرنے والا ہے اور ساتھ ساتھ ان کے دشمنوں سے بے زار ہے۔

ثوابِ مشی (زیارتِ امامِ حسین علیہ السلام کی خاطر پیدل سفر کرنا)

زائرینِ امامِ حسین علیہ السلام اپنے مظلوم امام علیہ السلام کی زیارت کے لیے پیدل بھی سفر کرتے ہیں اوریہ پیدل سفر کر کے امامِ حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا زیارتِ اربعین سے خاص نہیں ہے بلکہ عراق میں زائرینِ کرام پندرہ شعبان،روزِ عرفہ، روزِ عاشورہ اور اسی طرح سے شبِ جمعہ کی زیارت کے لیے بھی مشی کرتے ہیں اوراگر اس عمل کو روایات کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہ عمل بہت زیادہ اجرو ثواب کا حامل ہےاور روایات کے علاوہ دیکھا جائے تو سواری کی سہولت ہونے کے باوجود کسی زائر کا پیدل سفر کرکے زیارت کرنا بتاتا ہے کہ وہ امامِ حسین علیہ السلام سے بے انتہاعشق کرتا ہے۔

آئمۂ معصومین علیہم السلام سے ایسی احادیث بھی نقل ہوئی ہیں جو امامِ حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے پیدل سفرکرنے کے ثواب کو بیان کرتی ہیں اوران روایات کو شیخِ جعفر قولویہ قمّی ؒنے اپنی کتاب کامل الزیارات میں،شیخِ صدوقؒ،شیخِ طوسیؒ اور شیخِ کلینیؒ، ان سب نےان روایات کو اپنی اپنی کتب میں جمع کیا ہے اور شیخِ حرِّ عاملیؒ نے بھی اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں ایک مکمل باب ”زیارتِ امامِ حسین علیہ السلام کے لیے پیدل سفر کرنا مستحب ہے“قائم کیا ہے۔

میں اس مختصر تحریر میں قارئینِ کرام کے لیے کچھ روایات کو بیان کروں گا۔

  1. حسین ابنِ علی ابنِ ثویر کہتے ہیں کہ مجھ سے امامِ جعفرِ صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ يَا حُسَيْنُ مَنْ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِنْ كَانَ مَاشِياً كَتَبَ اَللّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ حَطَّ بِهَا عَنْهُ سَيِّئَةً اے حسین علیہ السلام! جو کوئی اپنے گھر سےامامِ حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے نکلےاگر وہ پیدل ہوگا تو پروردگار اس کے ہر قدم کے بدلے(اس کے نامۂ اعمال میں) ایک نیکی لکھے گا اورایک گناہ مٹائے گا۔4
  2. بشیرِدھان امامِ جعفرِصادق علیہ السلام سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے فرمایاکہ إِنَّ الرَّجُلَ يَخْرُجُ إِلَى قَبْرِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَلَهُ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ بِأَوَّلِ خُطْوَةٍ مَغْفِرَةُ ذُنُوبِهِ وہ شخص جو قبرِ امامِ حسین علیہ السلام پر آنے کے لیے نکلے پس وہ جیسے ہی اپنے اہل و عیال کو رخصت کرکے پہلا قدم رکھتا ہےتو وہ قدم اس کے گناہوں کی مغفرت کا سبب بن جاتا ہے۔ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُقَدَّسُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَتَّى يَأْتِيَهُ پس اسی طرح سے اس کے ہر قدم مقدس رہیں گے یہاں تک کہ وہ قبرِ امامِ حسین علیہ السلام پر پہنچ جائے گا۔ فَإِذَا أَتَاهُ نَاجَاهُ اللّهُ عَبْدِي سَلْنِي أُعْطِكَ اُدْعُنِي أُجِبْكَ اُطْلُبْ مِنِّي أُعْطِكَ سَلْنِي حَاجَةً أَقْضِهَا لَكَ پھر فوراًپروردگار اس شخص سے کہے گاکہ”میرے بندے مجھ سے مانگ میں تجھے عطا کروں گا،مجھے پکارمیں تجھے جواب دوں گا، مجھے سے طلب کر میں تجھےعطا کروں گا،مجھے سے حاجت مانگ میں تیری حاجت روائی کروں گا“۔5
  3. علی ابنِ میمونِ صائغ، امامِ جعفرِ صادق علیہ السلام سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے فرمایاکہ يَا عَلِيُّ زُرِ اَلْحُسَيْنَ وَ لاَ تَدَعْهُ اے علی! امامِ حسین علیہ السلام کی زیارت کرو اور اسے ترک مت کرو۔

    یہ سن کر علی ابنِ میمون نےامام علیہ السلام سےسوال کیا کہ”زائرِ امامِ حسین علیہ السلام کا ثواب کیا ہے؟“تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ

    مَنْ أَتَاهُ مَاشِياً كَتَبَ اللّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحىٰ عَنْهُ سَيِّئَةً وَ رَفَعَ لَهُ دَرَجَةً جو کوئی پیدل امامِ حسین علیہ السلام کی زیارت کو پہنچے تو پروردگار(اس کے نامۂ اعمال میں)اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، ایک گناہ مٹائے گا ور ایک درجہ اس زائر کا بلند کرے گا۔ فَإِذَا أَتَاهُ وَكَّلَ اللّهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يَكْتُبَانِ مَا خَرَجَ مِنْ فِيهِ مِنْ خَيْرٍ وَ لاَ يَكْتُبَانِ مَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ مِنْ شَرٍّ وَ لاَ غَيْرَ ذَلِكَ اور جب وہ زائر زیارت کے لیے پہنچ جاتا ہے تو پروردگار دو فرشتوں کو بھیجتا ہےجو اس کی فقط نیکیوں کو لکھتے ہیں اوراس کے گناہوں سے درگزر کرتے ہیں۔ فَإِذَا اِنْصَرَفَ وَدَّعُوهُ وَ قَالُوا يَا وَلِيَّ اللّهِ مَغْفُوراً لَكَ أَنْتَ مِنْ حِزْبِ اللّهِ وَ حِزْبِ رَسُولِهِ وَ حِزْبِ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِهِ اور وہ زائر جب زیارت سے پلٹ رہا ہوتا ہے تو وہ فرشتے اسے الوداع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ”اے خدا کے دوست! تیری مغفرت ہوچکی ہے،تیرا شمار اللہ،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت علیہم السلام کے گروہ میں ہوگیاہے“۔ وَ اَللَّهِ لاَ تَرَى اَلنَّارَ بِعَيْنِكَ أَبَداً وَ لاَ تَرَاكَ وَ لاَ تَطْعَمُكَ أَبَداً خدا کی قسم ! تو اب نارِ جہنم کو کبھی نہ دیکھے گا اور نارِ جہنم نہ ہی تجھے دیکھے گی اور نہ ہی تجھے اپنا نوالہ بنائے گی۔6

اعمالِ روزِ اربعین

صفوان ابنِ مہران کہتے ہیں کہ امامِ جعفرِ صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ”(۲۰ صفر المظفر )کا دن جب چڑھے تو یہ زیارت پڑھو

اَلسَّلاَمُ عَلَى وَلِيِّ اللّهِ وَ حَبِيبِهِ اَلسَّلاَمُ عَلَى خَلِيلِ اللّهِ۔۔۔ آخر تک اور زیارت کے بعد دو رکعت نماز اور جو چاہو دعا مانگو۔7

زیارتِ اربعین متن

اَلسَّلامُ عَلَی وَلِی اللهِ وَ حَبِیبِهِ السَّلامُ عَلَی خَلِیلِ اللهِ وَ نَجِیبِهِ السَّلامُ عَلَی صَفِی اللهِ وَ ابْنِ صَفِیه السَّلامُ عَلَی الْحُسَینِ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ السَّلامُ عَلَی أَسِیرِ الْكُرُبَاتِ وَ قَتِیلِ الْعَبَرَاتِ اللهُمَّ إِنِّی أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِیُّكَ وَ ابْنُ وَلِیِّك وَ صَفِیُّك وَ ابْنُ صَفِیِّكَ الْفَائِزُ بِكرَامَتِكَ أَكرَمْتَهُ بِالشَّهَادَةِ وَ حَبَوْتَهُ بِالسَّعَادَةِ وَ اجْتَبَیْتَهُ بِطِیبِ الْوِلادَةِ وَ جَعَلْتَهُ سَیِّدًا مِنَ السَّادَةِ وَ قَائِداً مِنَ الْقَادَةِ وَ ذَائِداً مِنَ الذَّادَةِ وَ أَعْطَیْتَهُ مَوَارِیثَ الْأَنْبِیَاءِ وَ جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَی خَلْقِكَ مِنَ الْأَوْصِیَاءِ فَأَعْذَرَ فِی الدُّعَاءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیكَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَك مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَیرَةِ الضَّلَالَةِ وَ قَدْ تَوَازَرَ عَلَیهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْیَا وَ بَاعَ حَظَّهُ بِالْأَرْذَلِ الْأَدْنَی وَ شَرَی آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الْأَوْكَسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدَّی فِی هَوَاهُوَ أَسْخَطَكَ وَ أَسْخَطَ نَبِیِّكَ، وَ أَطَاعَ مِنْ عِبَادِك أَهْلَ الشِّقَاقِ وَ النِّفَاقِ وَ حَمَلَةَ الْأَوْزَارِ الْمُسْتَوْجِبِینَ النَّارَ [لِلنَّارِ] فَجَاهَدَهُمْ فِیكَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا حَتّٰی سُفِكَ فِی طَاعَتِكَ دَمُهُ وَ اسْتُبِیْحَ حَرِیمُهُ اللّٰهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْناً وَبِیلاً وَ عَذِّبْهُمْ عَذَاباً أَلِیماً السَّلامُ عَلَیكَ یا ابْنَ رَسُولِ اللهِ السَّلامُ عَلَیك یَا ابْنَ سَیدِ الْأَوْصِیاءِ أَشْهَدُ أَنَّك أَمِینُ اللهِ وَ ابْنُ أَمِینِهِ عِشْتَ سَعِیداً وَ مَضَیْتَ حَمِیداً وَ مُتَّ فَقِیْداً مَظْلُوماً شَهِیْداً وَ أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ مُنْجِزٌ مَا وَعَدَكَ وَ مُهْلِكٌ مَنْ خَذَلَكَ وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَكَ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ وَفَیْتَ بِعَهْدِ اللهِ وَ جَاهَدْتَ فِی سَبِیلِهِ حَتّٰی أَتَاكَ الْیَقِینُ فَلَعَنَ اللهُ مَنْ قَتَلَك وَ لَعَنَ اللهُ مَنْ ظَلَمَك وَ لَعَنَ اللهُ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذَلِك فَرَضِیَتْ بِهِ، اللّٰهُمَّ إِنِّی أُشْهِدُكَ أَنِّی وَلِیَ لِمَنْ وَالاهُ وَ عَدُّوٌ لِمَنْ عَادَاهُ بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی یا ابْنَ رَسُولِ اللهِ أَشْهَدُ أَنَّك كنْتَ نُورا فِی الْأَصْلابِ الشَّامِخَةِ وَ الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ [الطَّاهِرَةِ] لَمْ تُنَجِّسْك الْجَاهِلِیةُ بِأَنْجَاسِهَا وَ لَمْ تُلْبِسْك الْمُدْلَهِمَّاتُ مِنْ ثِیابِهَا وَ أَشْهَدُ أَنَّك مِنْ دَعَائِمِ الدِّینِ وَ أَرْكانِ الْمُسْلِمِینَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنِینَ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ الْإِمَامُ الْبَرُّ التَّقِی الرَّضِی الزَّكی الْهَادِی الْمَهْدِی وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِكَ كلِمَةُ التَّقْوَی وَ أَعْلامُ الْهُدَی وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَی وَ الْحُجَّةُ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَ أَشْهَدُ أَنِّی بِكمْ مُؤْمِنٌ وَ بِإِیَّابِكمْ مُوقِنٌ بِشَرَائِعِ دِینِی وَ خَوَاتِیمِ عَمَلِی وَ قَلْبِی لِقَلْبِكمْ سِلْمٌ وَ أَمْرِی لِأَمْرِكمْ مُتَّبِعٌ وَ نُصْرَتِی لَكمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یأْذَنَ اللهُ لَكمْ فَمَعَكمْ مَعَكمْ لا مَعَ عَدُوِّكمْ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَیكمْ وَ عَلَی أَرْوَاحِكمْ وَأَجْسَادِكمْ[أَجْسَامِكمْ] وَ شَاهِدِكمْ وَ غَائِبِكمْ وَ ظَاهِرِكمْ وَ بَاطِنِكمْ آمِینَ رَبَّ الْعَالَمِینَ ۔

زیارتِ اربعین ترجمہ

سلام ہو خدا کے ولی اور اس کے پیارے پر، سلام ہو خدا کے سچّے دوست اور چنے ہوئے پر، سلام ہو خدا کے پسندیدہ اوراس کے پسندیدہ کے فرزند پر، سلام ہو حسین علیہ السلام پرجوستم دیدہ شہید ہیں, سلام ہو حسین علیہ السلام پر جو مشکلوں میں پڑے اور انکی شہادت پر آنسو بہے، اے معبود میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند، تیرے پسندیدہ اور تیرے پسندیدہ کے فرزند ہیں۔ جنہوں نے تجھ سے عزت پائی، تونے انہیں شہادت کی عزت دی، ان کو خوش بختی نصیب کی اور انہیں پاک گھرانے میں پیدا کیا، تو نے قرار دیا انہیں سرداروں میں سردار، پیشوائوں میں پیشوا، مجاہدوں میں مجاہد اور انہیں نبیوں کے ورثے عنایت کیے۔ تو نے قراردیا ان کو اوصیاء میں سے، اپنی مخلوقات پرحجت، پس انہوں نے تبلیغ کا حق ادا کیا، بہترین خیرخواہی کی اورتیری خاطراپنی جان قربان کی تاکہ تیرے بندوں کو نجات دلائیں نادانی وگمراہی کی پریشانیوں سے، جب کہ ان پران لوگوں نے ظلم کیا جنہیں دنیا نے مغرور بنا دیا تھا، جنہوں نے اپنی جانیں معمولی چیز کے بدلے بیچ دیں اوراپنی آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا کیا۔ انہوں نے سرکشی کی اورلالچ کے پیچھے چل پڑے، انہوں نے تجھے غضب ناک اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناراض کیا، انہوں نے تیرے بندوں میں سے انکی بات مانی جو ضدی اور بے ایمان تھے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ لے کرجہنم کی طرف چلے گئے پس حسین علیہ السلام ان سے تیرے لیے لڑے، جم کرہوشمندی کیساتھ، یہاں تک کہ تیری فرمانبرداری کرنے پر انکا خون بہایا گیا اور انکے اہل حرم کو لوٹا گیا۔ اے معبود لعنت کر ان ظالموں پر سختی کے ساتھ اورعذاب دے ان کو درد ناک عذاب۔ آپ پر سلام ہو اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند، آپ پرسلام ہو اے سرداراوصیاء کے فرزند، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے امین اور اسکے امین کے فرزند ہیں، آپ نیک بختی میں زندہ رہے، قابل تعریف حال میں گزرے اور وفات پائی وطن سے دورکہ آپ ستم زدہ شہید ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا آپ کو جزا دے گا جس کا اس نے وعدہ کیا اوراسکو تباہ کریگا وہ جس نے آپکا ساتھ چھوڑا اوراسکو عذاب دیگا، جس نے آپکو قتل کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی دی ہوئی ذمہ داری نبھائی، آپ نے اسکی راہ میں جہاد کیا حتی کہ شہید ہوگئے پس خدا لعنت کرے جس نے آپکو قتل كيا، خدا لعنت کرے جس نے آپ پرظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس قوم پرجس نے یہ واقعہ شہادت سنا تو اس پر خوشی ظاہر کی، اے معبود میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ ان کے دوست کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں۔ میرے ماں باپ قربان آپ پراے فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور کی شکل میں رہے صاحب عزت صلبوں میں اور پاکیزہ رحموں میں، جنہیں جاہلیت نے اپنی نجاست سے آلودہ نہ کیا اور نہ ہی اس نے اپنے بے ہنگم لباس آپ کو پہنائے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے ستون ہیں، مسلمانوں کے سردار ہیں اور مومنوں کی پناہ گاہ ہیں. میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام علیہ السلام ہیں، نیک و پرہیز گار، پسندیدہ پاک رہبر، راہ یافتہ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد میں سے ہیں وہ پرہیزگاری کے ترجمان، ہدایت کے نشان، محکم تر سلسلہ اور دنیا والوں پرخدا کی دلیل و حجت ہیں. میں گواہی دیتا ہوں کہ میں آپ کا اور آپ کے بزرگوں کا ماننے والا، اپنے دینی احکام اورعمل کی جزا پر یقین رکھنے والا ہوں، میرا دل آپکے دل کیساتھ پیوستہ، میرا معاملہ آپ کے معاملے کے تابع اور میری مدد آپ کیلئے حاضر ہے حتی کہ خدا آپکو اذن قیام دے پس آپکے ساتھ ہوں آپکے ساتھ نہ کہ آپکے دشمن کیساتھ ۔ خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کی پاک روحوں پر، آپ کے جسموں پر، آپ کے حاضر پر، آپ کے غائب پر، آپ کے ظاہر اور آپ کے باطن پر ایسا ہی ہو، اے جہانوں کے پروردگار۔

وَصَلَّى اَللَّهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ اَلطَّيِّبِينَ اَلطَّاهِرِينَ

حوالہ

1نفس المہموم ،ص۳۲۲
2لہوف، سید ابنِ طاؤس،ص ۲۲۵
3خصال، شیخِ صدوقؒ، ص ۲۶۹
4تہذیب الاحکام،ص۴۳
5بحار الانوار، مجلسی، ج۹۷، ص ۲۴
6کامل الزیارات، ابن قولویہ، ج۱، ص ۱۳۳
7اقبال الاعمال،ج۲، ص۵۸۹

Gides © 2026 web developtment by GIYF Team | Rights Reserved